خوف زدہ
2025-12-01قوم کا درد، قوم کی آزمائش
جب کسی ملک کی سمت دھندلا جائے تو فضا کی بے چینی لفظوں سے پہلے محسوس ہونے لگتی ہے۔ آج کا پاکستان بھی اسی کیفیت سے گزر رہا ہے — غیر یقینی، بے سکونی، اضطراب اور ایک ایسی خاموش تکلیف جو ہر باشعور شہری محسوس کر رہا ہے۔ سیاسی فیصلوں میں تاخیر، اہم شخصیات کی تنہائی، اور طاقت کے مراکز کے درمیان کھینچا تانی نے ایسی فضا پیدا کر دی ہے جس میں عوام کا اعتماد مسلسل مجروح ہو رہا ہے۔
قوم کے دل میں سوال بڑھ رہے ہیں، اندیشے گہرے ہو رہے ہیں، اور مستقبل کی سمت دھندلانے لگی ہے۔ گھروں میں گفتگو بدلی ہوئی ہے، اداروں پر اعتماد کے سائے ہیں، اور سڑکوں پر خوف اور بے بسی کی ملی جلی کیفیت پائی جاتی ہے۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز کمزور کر دی گئی ہے، ان کے سوالوں کے جواب نہیں مل رہے، اور اُن کی امیدیں بار بار آزمائش میں ڈالی جا رہی ہیں۔
لیکن اس تمام ہنگامے کے نیچے ایک بڑی حقیقت چھپی ہے: قومیں مشکلات سے نہیں ٹوٹتیں، وہ تب ٹوٹتی ہیں جب وہ اپنے کردار کو بھول جائیں۔
ریاست کی اصل قوت عہدوں، مراتب یا طاقت کے مراکز سے نہیں آتی، بلکہ اپنے لوگوں کے اجتماعی شعور سے آتی ہے۔ اور پاکستانی قوم نے ہر دور میں ثابت کیا ہے کہ وہ مشکلات کے سامنے سر نہیں جھکاتی۔
حقیقی امن، پائیدار استحکام اور سچا انصاف کبھی اوپر سے نازل نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ ایک باشعور، ذمہ دار اور بیدار قوم کے اجتماعی کردار کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب معاشرہ اپنے حقوق کو سمجھتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتا ہے، اور اصولوں پر کھڑا رہتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس کی بنیادیں نہیں ہلا سکتی۔
یہ وقت مایوسی کا نہیں، غور و فکر کا ہے۔ یہ وقت قوم کے اندر چھپی ہوئی قوت کو پہچاننے کا ہے — وہ قوت جو صبر، اتحاد، اخلاق اور شعوری بیداری سے بنتی ہے۔ اصول پر کھڑا شہری کبھی کمزور نہیں ہوتا، اور باشعور قوم کبھی بے بس نہیں رہتی۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انتشار ہمیشہ وقتی ہوتا ہے، مگر قوموں کا حوصلہ ہمیشہ دیرپا ہوتا ہے۔ جب لوگ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز کو زندہ رکھتے ہیں، جب وہ خوف کے بجائے شعور کو اپناتے ہیں، جب وہ عدل، سچائی اور دیانت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں — تو پھر ان کی اجتماعی طاقت کو کوئی نہیں دبا سکتا۔
پاکستان آج زخمی ضرور ہے، مگر شکستہ نہیں۔ آج جو درد محسوس ہو رہا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم زندہ ہے، بیدار ہے، اور اپنے مستقبل سے غافل نہیں۔ استحکام کا راستہ نہ خاموشی میں ہے، نہ ہنگامے میں — بلکہ اس اجتماعی شعور میں ہے جو قوم کو اس کی اصل قوت یاد دلاتا ہے۔
یہ وقت امید چھوڑنے کا نہیں، بلکہ اُس یقین کو سینے میں تازہ کرنے کا ہے کہ کوئی اندھیری رات اُس قوم پر غالب نہیں آ سکتی جو عدل، سچائی اور اصولوں سے جڑی رہے۔ حل ضرور پیدا ہوں گے — طاقت سے نہیں، خوف سے نہیں — بلکہ ایک ایسی قوم کے اجتماعی کردار سے جو جانتی ہے کہ امن اور انصاف کے حقیقی امین وہ خود ہیں۔
پاکستان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اس کا اگلا باب آج کی آزمائش نہیں لکھے گی — بلکہ اس قوم کی بیداری، صبر، اور اخلاقی استقامت لکھے گی۔







8.1c






