خوف زدہ
2025-11-28قوم شدید اضطراب میں — 27ویں ترمیم اور بڑھتا ہوا عدم اعتماد
نئے آئینی نوٹیفکیشن کے التوا نے ملک میں بے چینی بڑھا دی ہے، مگر عوام کے نزدیک اصل خطرہ نوٹیفکیشن میں نہیں — بلکہ اس کے ممکنہ نتائج میں پوشیدہ ہے۔
آئینی ترمیم جسے عوامی مخالفت کا سامنا
27ویں آئینی ترمیم، جو فیلڈ مارشل کو تاحیات آئینی حیثیت اور مکمل قانونی استثنیٰ فراہم کرتی ہے، ملک بھر میں شدید بحث کا مرکز بن چکی ہے۔
سیاسی ماہرین، قانونی برادری، اور مختلف عوامی حلقے اسے:
• طاقت کا غیر معمولی ارتکاز،
• احتساب سے بالاتر حیثیت،
• اور جمہوری توازن کے لیے خطرہ
قرار دے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے ترمیم کے رول بیک کا مطالبہ اب وسیع عوامی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے۔
گزشتہ برس کے زخم جو آج بھی تازہ ہیں
26 نومبر 2024 کا دن آج بھی بہت سے پاکستانیوں کے دلوں پر بوجھ ہے۔
اسی دن اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہونے والے احتجاج کے دوران ریاستی ردِعمل پر ہیومن رائٹس گروپس، سیاسی کارکنوں اور مبصرین کی جانب سے سنگین تحفظات سامنے آئے۔
ان حلقوں کی جانب سے متعدد بار:
• حد سے بڑھتی ہوئی قوت کے استعمال،
• گرفتاریوں،
• سیاسی دباؤ،
• اور مختلف بے ضابطگیوں
کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
اگرچہ ریاستی ادارے اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔
عمران خان کی تنہائی — شکوک میں مزید اضافہ
عمران خان کی دو ہفتوں سے مسلسل تنہائی، ملاقاتوں پر پابندی، اور قابلِ اعتماد معلومات کی کمی نے عوامی تشویش میں شدید اضافہ کیا ہے۔
ان کے اہلِ خانہ اور کارکنوں کے ساتھ ہونے والے واقعات نے ماحول مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
بڑے پیمانے پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ سب ایک وسیع سیاسی دباؤ کا حصہ ہے — ایسا تاثر جو عوامی گفتگو، سوشل پلیٹ فارمز اور سیاسی مباحثوں میں مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔
نوٹیفکیشن — عوامی خدشات کا سب سے بڑا محور
عوامی تاثر کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ:
نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی فیلڈ مارشل بطور چیف آف ڈیفنس فورسز مکمل آئینی تحفظ حاصل کرلیں گے، اور احتساب کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔
قانونی ماہرین اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ:
• تاحیات قانونی استثنیٰ
• آئینی بالادستی
• اور احتساب سے آزادی
ریاست کی جمہوری ساخت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
عوام کے نزدیک یہ نوٹیفکیشن استحکام نہیں — بلکہ طاقت کے ایسے مستقل ڈھانچے کی تشکیل ہے جس میں جوابدہی کا کوئی دروازہ نہیں رہتا۔
ناقابلِ واپسی نتائج کا خوف
پاکستانی معاشرے میں اس وقت چند بنیادی سوال شدت سے گردش کر رہے ہیں:
• کیا یہ نوٹیفکیشن طاقت کا ناقابلِ پلٹاؤ توازن پیدا کر دے گا؟
• کیا مستقبل کی سیاسی منتقلیاں مشکل بلکہ ناممکن ہو جائیں گی؟
• کیا یہ ترمیم ہر طرح کے احتساب کا خاتمہ ثابت ہوگی؟
• کیا یہ ریاست کو مستقل بے توازنی میں دھکیل دے گی؟
یہ سوالات اب صرف سیاسی بیانیہ نہیں — ایک قومی فکر بن چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان — بے چینی میں اضافہ
خیبرپختونخوا میں بڑھتا ہوا اضطراب اور بلوچستان میں پھیلتی تشویش ملک گیر بے یقینی کی عکاسی کرتی ہے۔
عوامی رائے عامہ میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی کشیدگی کو بڑھا کر مختلف صوبوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے یا ملک گیر سطح پر کوئی خاص تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔
خاموشی کے بجائے شفافیت اور اصلاح کی ضرورت
ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیشِ نظر، مختلف حلقے اب کھل کر مطالبہ کر رہے ہیں:
• 27ویں ترمیم کا رول بیک
• اختیارات کا توازن بحال کرنا
• عمران خان کی صورتحال پر شفاف اور فوری معلومات
• سیاسی کارکنوں کی رہائی
• آئینی و جمہوری اصولوں کی بحالی
یہ وقت ریاستی حکمت کے ساتھ فیصلے کرنے کا ہے — خاموشی اب نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اختتامی کلمات
پاکستان ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے۔
آج لیا گیا فیصلہ آنے والے کئی دہائیوں کی سمت طے کر سکتا ہے۔
قوم شفافیت، جوابدہی اور اپنے بنیادی سیاسی حقوق کی متمنی ہے۔
ریاست کو عوام کی آواز سننا ہوگی — اس سے پہلے کہ عدم اعتماد کا یہ بحران، عدم استحکام میں بدل جائے۔







34.7c






